أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقَدِ اسْتَثْنَى".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی کام پر قسم کھائی پھر ان شاءاللہ کہا تو اس نے استثناء کر لیا ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3261]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الأیمان 7 (1531)، سنن النسائی/الأیمان 18 (3824)، 39 (3859)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 6 (2106)، (تحفة الأشراف: 7517)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/6، 10، 48، 49، 68، 126، 127، 153)، دی/ النذور 7 (2388) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: کیونکہ اب وہ اپنی قسم میں جھوٹا نہ ہو گا اس لئے کہ اس کی قسم اللہ کی مشیت و مرضی پر معلق ہو گئی۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
مشكوة المصابيح (3424)
أخرجه النسائي (3860 وسنده حسن) سفيان بن عيينة صرح بالسماع عند الحميدي بتحقيقي (691 وسنده صحيح)
الحكم: صحيح