الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِ سِنِينَ، كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی یزید بن حبیب سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شہداء احد پر آٹھ سال بعد نماز جنازہ پڑھی، یہ ایسی نماز تھی جیسے کوئی زندوں اور مردوں کو وداع کرتے ہوئے پڑھے (درد و سوز میں ڈوبی ہوئی) ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3224]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9956) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: گویا یہ آخر دعاء تھی اس لئے کہ غزوہ احد ۳ ہجری میں ہوا، اور اس کے آٹھ برس بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات ہوئی ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (4042)
الحكم: صحيح