يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ،عَنْ ثَوْبَانَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُتِيَ بِدَابَّةٍ، وَهُوَ مَعَ الْجَنَازَةِ، فَأَبَى أَنْ يَرْكَبَهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ أُتِيَ بِدَابَّةٍ فَرَكِبَ، فَقِيلَ لَهُ: فَقَالَ:"إِنَّ الْمَلَائِكَةَ كَانَتْ تَمْشِي، فَلَمْ أَكُنْ لِأَرْكَبَ وَهُمْ يَمْشُونَ، فَلَمَّا ذَهَبُوا رَكِبْتُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک سواری پیش کی گئی اور آپ جنازہ کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سوار ہونے سے انکار کیا (پیدل ہی گئے) جب جنازے سے فارغ ہو کر لوٹنے لگے تو سواری پیش کی گئی تو آپ سوار ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا: ”جنازے کے ساتھ فرشتے پیدل چل رہے تھے تو میں نے مناسب نہ سمجھا کہ وہ پیدل چل رہے ہوں اور میں سواری پر چلوں، پھر جب وہ چلے گئے تو میں سوار ہو گیا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3177]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2121)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز 15 (1480) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
يحيي بن أبي كثير مدلس و عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 117
الحكم: صحيح