بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 3170 — باب: جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: جنازے کے احکام و مسائل باب: جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت۔ حدیث 3170
حدیث نمبر: 3170 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، أَبُو صَخْرٍ ، شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ، فَيَقُومُ عَلَى جَنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا، لَا يُشْرِكُونَ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کوئی مسلمان ایسا نہیں جو مر جائے اور اس کی نماز جنازہ ایسے چالیس لوگ پڑھیں جو اللہ کے ساتھ کسی طرح کا بھی شرک نہ کرتے ہوں اور ان کی سفارش اس کے حق میں قبول نہ ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3170]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الجنائز 18 (948)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 19 (1489)، (تحفة الأشراف: 6354)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 40 (1029)، سنن النسائی/الجنائز 78 (1993)، مسند احمد (6/32، 40، 97، 231) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چالیس موحدین کا نماز جنازہ پڑھنا میت کی مغفرت کا سبب ہے، عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تلاش کر کے جنازے میں چالیس مسلمان جمع کرتے تھے، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں سو مسلمانوں کا ذکر ہے، تو جب چالیس کی سفارش مقبول ہے تو سو کی بدرجہ اولی مقبول ہوگی، بإذن اللہ۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (948)
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (3169) باب پر واپس اگلی حدیث (3171) →