مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ،عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا ذَكَرَتْ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فَأَثْنَتْ عَلَيْهِنَّ، وَقَالَتْ: لَهُنَّ مَعْرُوفًا، وَقَالَتْ: دَخَلَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فِرْصَةً مُمَسَّكَةً، قَالَ مُسَدَّدٌ: كَانَ أَبُو عَوَانَةَ، يَقُولُ: فِرْصَةً، وَكَانَ أَبُو الْأَحْوَصِ، يَقُولُ: قَرْصَةً.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انصار کی عورتوں کا ذکر کیا تو ان کی تعریف کی اور ان کے حق میں بھلی بات کہی اور بولیں: ”ان میں سے ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی“، پھر راوی نے سابقہ مفہوم کی حدیث بیان کی، مگر اس میں انہوں نے «فرصة ممسكة» (مشک میں بسا ہوا پھاہا) کہا۔ مسدد کا بیان ہے کہ ابوعوانہ «فرصة» (پھاہا) کہتے تھے اور ابوالاحوص «قرصة» (روئی کا ٹکڑا) کہتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 315]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 17847) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
انظر الحديث السابق
الحكم: حسن صحيح