مُسَدَّدٌ ، سُفْيَانُ ، جَعْفَرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"اصْنَعُوا لِآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا، فَإِنَّهُ قَدْ أَتَاهُمْ أَمْرٌ شَغَلَهُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو کیونکہ ان پر ایک ایسا امر (حادثہ و سانحہ) پیش آ گیا ہے جس نے انہیں اس کا موقع نہیں دیا ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3132]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الجنائز 21 (998)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 59 (1610)، (تحفة الأشراف: 5217)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/205) (حسن)»
وضاحت
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ رشتہ داروں کو میت کے گھروالوں کے پاس کھانا پکوا کر بھجوانا چاہئے۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
مشكوة المصابيح (1739)
أخرجه الترمذي (998 وسنده حسن) وابن ماجه (1610 وسنده حسن) سفيان بن عيينة صرح بالسماع عند الحميدي والحاكم (1/372)
الحكم: حسن