بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 3122 — باب: مصیبت کے وقت (غم کے سبب سے) بیٹھنے کا بیان۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: جنازے کے احکام و مسائل باب: مصیبت کے وقت (غم کے سبب سے) بیٹھنے کا بیان۔ حدیث 3122
حدیث نمبر: 3122 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا قُتِلَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، وَجَعْفَرٌ،وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ، جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْحُزْنُ، وَذَكَرَ الْقِصَّةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں جب زید بن حارثہ، جعفر بن ابوطالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم قتل کر دئیے گئے (اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اطلاع ملی) تو رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد نبوی میں بیٹھ گئے، آپ کے چہرے سے غم ٹپک رہا تھا، اور واقعہ کی تفصیل بتائی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3122]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الجنائز 40 (1299)، 45 (1305)، والمغازي 44 (4263)، صحیح مسلم/الجنائز 10 (935)، سنن النسائی/الجنائز 14 (1848)، (تحفة الأشراف: 17932)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/59، 277) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1305) صحيح مسلم (935)
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (3121) باب پر واپس اگلی حدیث (3123) →