الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ يَعْنِي حُبِّي ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، يُونُسَ بْنِ نَافِعٍ ، كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ ، الْأَزْدِيَّةُ يَعْنِي مُسَّةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ يَعْنِي حُبِّي، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ:حَدَّثَتْنِي الْأَزْدِيَّةُ يَعْنِي مُسَّةَ، قَالَتْ: حَجَجْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ يَأْمُرُ النِّسَاءَ يَقْضِينَ صَلَاةَ الْمَحِيضِ،فَقَالَتْ:" لَا يَقْضِينَ، كَانَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْعُدُ فِي النِّفَاسِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، لَا يَأْمُرُهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَضَاءِ صَلَاةِ النِّفَاسِ"، قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ حَاتِمٍ: وَاسْمُهَا مُسَّةُ تُكْنَى أُمَّ بُسَّةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَثِيرُ بْنُ زِيَادٍ كُنْيَتُهُ أَبُو سَهْلٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مسہازدیہ (ام بسہ) سے روایت ہے کہ میں حج کو گئی تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حاضر ہوئی، میں نے ان سے کہا: اے ام المؤمنین! سمرہ بن جندب عورتوں کو حیض کی نمازیں قضاء کرنے کا حکم دیتے ہیں، اس پر انہوں نے کہا: وہ قضاء نہ کریں (کیونکہ) عورت جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیویوں میں سے ہوتی ۱؎ حالت نفاس میں چالیس دن تک بیٹھی رہتی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے نفاس کی نماز قضاء کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 312]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18288) (حسن)»
وضاحت
۱؎: اس سے صرف ازواج مطہرات ہی مراد نہیں ہیں بلکہ یہ عام ہے اس میں بیٹیاں، لونڈیاں اور خاندان اور رشتہ کی عورتیں بھی داخل ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
انظر الحديث السابق
الحكم: حسن