بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 3119 — باب: کسی بھی مصیبت کے وقت «إنا لله وإنا إليه راجعون» پڑھنے کا بیان۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: جنازے کے احکام و مسائل باب: کسی بھی مصیبت کے وقت «إنا لله وإنا إليه راجعون» پڑھنے کا بیان۔ حدیث 3119
حدیث نمبر: 3119 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، ابْنِ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَصَابَتْ أَحَدَكُمْ مُصِيبَةٌ، فَلْيَقُلْ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي، فَآجِرْنِي فِيهَا، وَأَبْدِلْ لِي خَيْرًا مِنْهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت پہنچے (تھوڑی ہو یا زیادہ) تو اسے چاہیئے کہ: «إنا لله وإنا إليه راجعون»، «اللهم عندك أحتسب مصيبتي فآجرني فيها وأبدل لي خيرا منها» بیشک ہم اللہ کے ہیں اور لوٹ کر بھی اسی کے پاس جانے والے ہیں، اے اللہ! میں تیرے ہی پاس اپنی مصیبت کو پیش کرتا ہوں تو مجھے اس مصیبت کے بدلے جو مجھے پہنچ چکی ہے ثواب عطا کر اور اس مصیبت کو خیر سے بدل دے، کہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3119]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18202)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/317) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعيفة، للالبانی 2382)
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
وللحديث شواھد عند مسلم (918) وغيره
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (3118) باب پر واپس اگلی حدیث (3120) →