مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَيِّتَ، فَقُولُوا خَيْرًا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَقُولُ؟ قَالَ: قُولِي: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، وَأَعْقِبْنَا عُقْبَى صَالِحَةً". قَالَتْ: فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ تَعَالَى بِهِ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی مرنے والے شخص کے پاس جاؤ تو بھلی بات کہو ۱؎ اس لیے کہ فرشتے تمہارے کہے پر آمین کہتے ہیں“، تو جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر) انتقال کر گئے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا کہ میں کیا کہوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم کہو: «اللهم اغفر له وأعقبنا عقبى صالحة» ”اے اللہ! ان کو بخش دے اور مجھے ان کا نعم البدل عطا فرما“۔ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو مجھے اللہ تعالیٰ نے ان کے بدلے میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عنایت فرمایا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3115]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الجنائز 3 (919)، سنن الترمذی/الجنائز 7 (977)، سنن النسائی/الجنائز 3 (1824)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 4 (1447)، 55 (1598)، (تحفة الأشراف: 18162، 18247)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز 14 (42)، مسند احمد (6/291، 306) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی دعائے مغفرت وغیرہ کرو۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (919)
الحكم: صحيح