يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، هِشَامٍ ، الْحَسَنِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ:" الرِّكَازُ الْكَنْزُ الْعَادِيُّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حسن بصری کہتے ہیں کہ رکاز سے مراد جاہلی دور کا مدفون خزانہ ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 3086]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18555) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: بعض نسخوں میں ”یحییٰ بن معین“ ہے، مزی نے تحفۃ الاشراف میں ”ابن معین“ ہی لکھا ہے۔
۲؎: حسن بصری نے رکاز کی تعریف «الکنز العادی» سے کی، یعنی زمانہ جاہلیت میں دفن کیا گیا خزانہ، اور ہر پرانی چیز کو عادی «عاد» سے منسوب کر کے کہتے ہیں، گرچہ «عاد» کا عہد نہ ملا ہو، حسن بصری کی یہ تفسیر لؤلؤئی کے سنن ابی داود کے نسخے میں نہیں ہے، امام مزی نے اسے تحفۃ الأشراف میں ابن داسہ کی روایت سے ذکر کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ھشام بن حسان عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 114
الحكم: صحيح مقطوع