هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبُو دَاوُدَ ، عِمْرَانُ ، قَتَادَةَ ، يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، قَالَ: أَهْدَيْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةً، فَقَالَ" أَسْلَمْتَ، فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي نُهِيتُ عَنْ زَبْدِ الْمُشْرِكِينَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک اونٹنی ہدیہ میں دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم مسلمان ہو گئے ہو؟“ میں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے مشرکوں سے تحفہ لینے کی ممانعت کر دی گئی ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 3057]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/السیر 24 (1577)، (تحفة الأشراف: 11015)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/162) (حسن صحیح)»
وضاحت
۱؎: بعض روایات میں آتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نجاشی، مقوقس، اکیدر دومہ اور رئیس فدک کے ہدایا قبول کئے تو یہ «إني نهيت عن زبد المشركين» کے خلاف نہیں ہے کیونکہ مذکورہ سب کے سب ہدایا اہل کتاب کے تھے نہ کہ مشرکین کے، گویا اہل کتاب کے ہدایا لینے درست ہیں نہ کہ مشرکین کے۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
وللحديث شاھد عند أحمد (3/402 وسنده حسن)
الحكم: حسن صحيح