الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى أُكَيْدِرِ دُومَةَ فَأُخِذَ فَأَتَوْهُ بِهِ، فَحَقَنَ لَهُ دَمَهُ وَصَالَحَهُ عَلَى الْجِزْيَةِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ سے (مرفوعاً) اور عثمان بن ابو سلیمان سے (مرسلاً) روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خالد بن ولید کو اکیدر ۱؎ دومہ کی طرف بھیجا، تو خالد اور ان کے ساتھیوں نے اسے گرفتار کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے آئے، آپ نے اس کا خون معاف کر دیا اور جزیہ پر اس سے صلح کر لی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 3037]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 937، 19002) (حسن)»
وضاحت
۱؎: اکیدر شہر دومہ کا نصرانی بادشاہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے زندہ پکڑ لانے کا حکم دیا تھا۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 111
الحكم: حسن