بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 3002 — باب: مدینہ سے یہود کیسے نکالے گئے۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل باب: مدینہ سے یہود کیسے نکالے گئے۔ حدیث 3002
حدیث نمبر: 3002 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو ، يُونُسُ ، ابْنُ إِسْحَاق ، مَوْلًى لِزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، ابْنَةُ مُحَيْصَةَ ، مُحَيْصَةَ
حَدَّثَنَا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا يُونُسُ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاق حَدَّثَنِي مَوْلًى لِزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَتْنِي ابْنَةُ مُحَيْصَةَ، عَنْ أَبِيهَا مُحَيْصَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ ظَفِرْتُمْ بِهِ مِنْ رِجَالِ يَهُودَ فَاقْتُلُوهُ"، فَوَثَبَ مُحَيْصَةُ عَلَى شَبِيبَةَ رَجُلٍ مِنْ تُجَّارِ يَهُودَ كَانَ يُلَابِسُهُمْ فَقَتَلَهُ وَكَانَ حُوَيْصَةُ إِذْ ذَاكَ لَمْ يُسْلِمْ وَكَانَ أَسَنَّ مِنْ مُحَيْصَةَ، فَلَمَّا قَتَلَهُ جَعَلَ حُوَيْصَةُ يَضْرِبُهُ، وَيَقُولُ: يَا عَدُوَّ اللَّهِ أَمَا وَاللَّهِ لَرُبَّ شَحْمٍ فِي بَطْنِكَ مِنْ مَالِهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
محیصہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہودیوں میں سے جس کسی مرد پر بھی تم قابو پاؤ اسے قتل کر دو، تو محیصہ رضی اللہ عنہ نے یہود کے سوداگروں میں سے ایک سوداگر کو جس کا نام شبیبہ تھا حملہ کر کے قتل کر دیا، اور اس وقت تک حویصہ مسلمان نہیں ہوئے تھے اور وہ محیصہ رضی اللہ عنہ سے بڑے تھے، تو جب محیصہ رضی اللہ عنہ نے یہودی تاجر کو قتل کر دیا تو حویصہ محیصہ کو مارنے لگے اور کہنے لگے: اے اللہ کے دشمن! قسم اللہ کی تیرے پیٹ میں اس کے مال کی بڑی چربی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 3002]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11240)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/436، 435) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے دوراوی مولی زید بن ثابت اور ابنت محیصہ ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
مولي لزيد بن ثابت ھو محمد بن أبي محمد
انظر الحديث السابق (3001) وابنة محيصة :لا تعرف (تق : 8786)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 109
الحكم: ضعيف
← پچھلی حدیث (3001) باب پر واپس اگلی حدیث (3003) →