بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 2930 — باب: حکومت و اقتدار کو طلب کرنا کیسا ہے؟
کتب سنن ابو داؤد کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل باب: حکومت و اقتدار کو طلب کرنا کیسا ہے؟ حدیث 2930
حدیث نمبر: 2930 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، خَالِدٌ ، إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، أَخِيهِ ، بِشْرِ بْنِ قُرَّةَ الْكَلْبِيِّ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ بِشْرِ بْنِ قُرَّةَ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ رَجُلَيْنِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَشَهَّدَ أَحَدُهُمَا، ثُمَّ قَالَ: جِئْنَا لِتَسْتَعِينَ بِنَا عَلَى عَمَلِكَ، وَقَالَ الآخَرُ مِثْلَ قَوْلِ صَاحِبِهِ، فَقَالَ:إِنَّ أَخْوَنَكُمْ عِنْدَنَا مَنْ طَلَبَهُ، فَاعْتَذَرَ أَبُو مُوسَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: لَمْ أَعْلَمْ لِمَا جَاءَا لَهُ فَلَمْ يَسْتَعِنْ بِهِمَا عَلَى شَيْءٍ حَتَّى مَاتَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں دو آدمیوں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس گیا، ان میں سے ایک نے (اللہ کی وحدانیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کی) گواہی دی پھر کہا کہ ہم آپ کے پاس اس غرض سے آئے ہیں کہ آپ ہم سے اپنی حکومت کے کام میں مدد لیجئے ۱؎ دوسرے نے بھی اپنے ساتھی ہی جیسی بات کہی، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے نزدیک تم میں وہ شخص سب سے بڑا خائن ہے جو حکومت طلب کرے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے معذرت پیش کی، اور کہا کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ دونوں آدمی اس غرض سے آئے ہیں پھر انہوں نے ان سے زندگی بھر کسی کام میں مدد نہیں لی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 2930]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی/آداب القضاة 4 (5384)، (تحفة الأشراف: 9077)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/393، 411) (منکر)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی ہمیں عامل بنا دیجئے یا حکومت کی کوئی ذمہ داری ہمارے سپرد کر دیجئے۔
قال الشيخ الألباني
منكر
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
إسماعيل بن أبي خالد عنعن وھو مدلس (طبقات المدلسين : 2/36وھو من الثالثة) وأما أخوه سعيد: فثقة وثقه العجلي وابن حبان وغيرهما
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 106
الحكم: منكر
← پچھلی حدیث (2929) باب پر واپس اگلی حدیث (2931) →