عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ، الْمُحَارِبِيُّ ، جِبْرِيلَ بْنِ أَحْمَرَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ جِبْرِيلَ بْنِ أَحْمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ:" إِنَّ عِنْدِي مِيرَاثَ رَجُلٍ مِنْ الْأَزْدِ وَلَسْتُ أَجِدُ أَزْدِيًّا أَدْفَعُهُ إِلَيْهِ قَالَ: اذْهَبْ فَالْتَمِسْ أَزْدِيًّا حَوْلًا، قَالَ: فَأَتَاهُ بَعْدَ الْحَوْلِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَجِدْ أَزْدِيًّا أَدْفَعُهُ إِلَيْهِ، قَالَ: فَانْطَلِقْ فَانْظُرْ أَوَّلَ خُزَاعِيٍّ تَلْقَاهُ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ: عَلَيَّ الرَّجُلُ، فَلَمَّا جَاءَهُ قَالَ: انْظُرْ كُبْرَ خُزَاعَةَ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: قبیلہ ازد کے ایک آدمی کا ترکہ میرے پاس ہے اور مجھے کوئی ازدی مل نہیں رہا ہے جسے میں یہ ترکہ دے دوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال تک کسی ازدی کو تلاش کرتے رہو“۔ وہ شخص پھر ایک سال بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ازدی نہیں ملا کہ میں اسے ترکہ دے دیتا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ کسی خزاعی ہی کو تلاش کرو، اگر مل جائے تو مال اس کو دے دو“، جب وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کو میرے پاس بلا کے لاؤ“، جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو جو شخص خزاعہ میں سب سے بڑا ہو اس کو یہ مال دے دینا ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 2903]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 1955)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/347) (ضعیف)» (اس کے راوی ’’جبریل بن احمر‘‘ ضعیف ہیں)
وضاحت
۱؎: کیونکہ جو سب سے بڑا ہو گا وہ اپنے جد اعلیٰ سے زیادہ قریب ہو گا اور جو اپنے جد اعلیٰ سے قریب ہو گا ازد سے بھی زیادہ قریب ہو گا کیونکہ خزاعہ ازد ہی کی ایک شاخ ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف بل صحيح
نسائي في الكبريٰ (6396)
المحاربي عنعن وھو مدلس
ولكن تابعه عباد بن العوام (نك 6395) فالحديث حسن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 105
الحكم: ضعيف