وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، خَالِدٍ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ:" أَيُّكُمْ يَعْلَمُ مَا وَرَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَدَّ، فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ: أَنَا وَرَّثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّدُسَ قَالَ: مَعَ مَنْ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: لَا دَرَيْتَ فَمَا تُغْنِي إِذًا؟".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حسن بصری کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دادا کو ترکے میں سے جو دلایا ہے اسے تم میں کون جانتا ہے؟ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے کہا: میں (جانتا ہوں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو چھٹا حصہ دلایا ہے، انہوں نے پوچھا: کس وارث کے ساتھ؟ وہ کہنے لگے: یہ تو معلوم نہیں، اس پر انہوں نے کہا: تمہیں پوری بات معلوم نہیں پھر کیا فائدہ تمہارے جاننے کا؟۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 2897]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/ الکبری (6335)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 3 (2723)، (تحفة الأشراف: 11467)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/27) (صحیح)» (حسن بصری کا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے، لیکن دوسرے طرق اور شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود 8؍ 251)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2723)
الحسن عن عمر : لم يدركه (تحفة الأشراف 20/8) فالسند منقطع
والحديث السابق (الأصل : 2895) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 104
الحكم: صحيح