بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 2868 — باب: وصی بننا اور ذمہ داری قبول کرنا کیسا ہے؟
کتب سنن ابو داؤد کتاب: وصیت کے احکام و مسائل باب: وصی بننا اور ذمہ داری قبول کرنا کیسا ہے؟ حدیث 2868
حدیث نمبر: 2868 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ إِنِّي أَرَاكَ ضَعِيفًا وَإِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي، فَلَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ وَلَا تَوَلَّيَنَّ مَالَ يَتِيمٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ مِصْرَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر! میں تمہیں ضعیف دیکھتا ہوں اور میں تمہارے لیے وہی پسند کرتا ہوں جو میں اپنے لیے پسند کرتا ہوں، تو تم دو آدمیوں پر بھی حاکم نہ ہونا، اور نہ یتیم کے مال کا ولی بننا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کی روایت کرنے میں اہل مصر منفرد ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْوَصَايَا/حدیث: 2868]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الإمارة 4 (1825)، سنن النسائی/الوصایا 9 (3697)، (تحفة الأشراف:11919)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/180) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح یتیم کے مال کا ولی بننا اور لوگوں پر حاکم بننا ایک مشکل کام ہے اور خوف کا باعث ہے اسی طرح وصیت کرنے والے کا وصی بننا بھی ایک مشکل عمل اور باعث خوف ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1826)
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (2867) باب پر واپس اگلی حدیث (2869) →