مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَمَّادٌ ، عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، الشَّعْبِيِّ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَوَجَدْتَهُ مِنَ الْغَدِ، وَلَمْ تَجِدْهُ فِي مَاءٍ وَلَا فِيهِ أَثَرٌ غَيْرَ سَهْمِكَ فَكُلْ، وَإِذَا اخْتَلَطَ بِكِلَابِكَ كَلْبٌ مِنْ غَيْرِهَا فَلَا تَأْكُلْ لَا تَدْرِي لَعَلَّهُ قَتَلَهُ الَّذِي لَيْسَ مِنْهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم بسم اللہ کہہ کر تیر چلاؤ، پھر اس شکار کو دوسرے روز پاؤ (یعنی شکار تیر کی چوٹ کھا کر نکل گیا پھر دوسرے روز ملا) اور وہ تمہیں پانی میں نہ ملا ہو ۱؎، اور نہ تمہارے تیر کے زخم کے سوا اور کوئی نشان ہو تو اسے کھاؤ، اور جب تمہارے کتے کے ساتھ دوسرا کتا بھی شامل ہو گیا ہو (یعنی دونوں نے مل کر شکار مارا ہو) تو پھر اس کو مت کھاؤ، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ اس جانور کو کس نے قتل کیا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ دوسرے کتے نے اسے قتل کیا ہو“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّيْدِ/حدیث: 2849]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: (2847)، (تحفة الأشراف: 9862) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: کیونکہ اس بات کا امکان ہے کہ کتے کے قتل کرنے کے سبب وہ ہلاک ہوا ہو بلکہ پانی ہی اس کے ہلاک ہونے کا سبب بنا ہو۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (5484) صحيح مسلم (1929)
الحكم: صحيح