مُسَدَّدٌ ، سُفْيَانُ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، أَبِيهِ ، سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ ، أُمِّ كُرْزٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا، قَالَتْ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ لَا يَضُرُّكُمْ أَذُكْرَانًا كُنَّ أَمْ إِنَاثًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام کرز رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: ”پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں بیٹھے رہنے دو (یعنی ان کو گھونسلوں سے اڑا کر تکلیف نہ دو)“، میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے: ”لڑکے کی طرف سے (عقیقہ میں) دو بکریاں ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے، اور تمہیں اس میں کچھ نقصان نہیں کہ وہ نر ہوں یا مادہ“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الضَّحَايَا/حدیث: 2835]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/العقیقة 3 (4223، 4222)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 1 (3162)، (تحفة الأشراف: 18347)، وقد أخرجہ: دی/ الأضاحی 9 (2011) (ضعیف)» (یہ حدیث ضعیف ہے،اس کی سند میں اضطراب ہے، عقیقہ سے متعلق حدیث کے لئے اوپر اور نیچے کی احادیث دیکھئے، ملاحظہ ہو: صحیح ابوداود 8/183)
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
مشكوة المصابيح (4152)
أخرجه النسائي (4222 وسنده حسن) والحميدي (346 وسنده صحيح)
الحكم: صحيح