بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 2827 — باب: جانور کے پیٹ میں موجود بچے کا ذبح اس کی ماں کا ذبح ہے۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: قربانی کے مسائل باب: جانور کے پیٹ میں موجود بچے کا ذبح اس کی ماں کا ذبح ہے۔ حدیث 2827
حدیث نمبر: 2827 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
الْقَعْنَبِيُّ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، مُسَدَّدٌ ، هُشَيْمٌ ، مُجَالِدٍ ، أَبِي الْوَدَّاكِ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَنِينِ، فَقَالَ:" كُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَنْحَرُ النَّاقَةَ، وَنَذْبَحُ الْبَقَرَةَ وَالشَّاةَ فَنَجِدُ فِي بَطْنِهَا الْجَنِينَ أَنُلْقِيهِ أَمْ نَأْكُلُهُ؟ قَالَ: كُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ فَإِنَّ ذَكَاتَهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس بچے کے بارے میں پوچھا جو ماں کے پیٹ سے ذبح کرنے کے بعد نکلتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر چاہو تو اسے کھا لو ۱؎۔ مسدد کی روایت میں ہے: ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہم اونٹنی کو نحر کرتے ہیں، گائے اور بکری کو ذبح کرتے ہیں اور اس کے پیٹ میں مردہ بچہ پاتے ہیں تو کیا ہم اس کو پھینک دیں یا اس کو بھی کھا لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: چاہو تو اسے کھا لو، اس کی ماں کا ذبح کرنا اس کا بھی ذبح کرنا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الضَّحَايَا/حدیث: 2827]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الأطعمة 2 (1476)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 15 (3199)، (تحفة الأشراف: 3986)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/31، 39، 53) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اکثر علماء کا یہی مذہب ہے، لیکن امام ابو حنیفہ سے اس کے خلاف مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اگر زندہ نکلے تو ذبح کر کے کھائے اور اگر مردہ ہو تو نہ کھائے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3199)
مجالد ضعيف،قال الهيثمي : ’’ و ضعفه الجمھور ‘‘ (مجمع الزوائد 416/9) وقال الحافظ ابن حجر : ’’ ليس بالقوي وقد تغير في آخرعمره‘‘ (تق : 6478)
و حديث ابن حبان (الموارد : 1077،و سنده حسن) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 102
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (2826) باب پر واپس اگلی حدیث (2828) →