مُسَدَّدٌ ، خَالِدٌ ، مُطَرِّفٍ ، عَامِرٍ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: ضَحَّى خَالٌ لِي يُقَالُ لَهُ أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" شَاتُكَ شَاةُ لَحْمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدِي دَاجِنًا جَذَعَةً مِنَ الْمَعْزِ، فَقَالَ: اذْبَحْهَا وَلَا تَصْلُحُ لِغَيْرِكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے ابوبردہ نامی ایک ماموں نے نماز سے پہلے قربانی کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”یہ تمہاری بکری گوشت کی بکری ہوئی“، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس بکریوں میں سے ایک پلی ہوئی جذعہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اسی کو ذبح کر ڈالو، لیکن تمہارے سوا اور کسی کے لیے ایسا کرنا درست نہیں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الضَّحَايَا/حدیث: 2801]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1769) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (5556) صحيح مسلم (1961)
الحكم: صحيح