عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، شَرِيكٌ ، أَبِي الْحَسْنَاءِ ، الْحَكَمِ ، حَنَشٍ ، عَلِيًّا
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ حَنَشٍ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حنش کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دو دنبے قربانی کرتے دیکھا تو میں نے ان سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ (یعنی قربانی میں ایک دنبہ کفایت کرتا ہے آپ دو کیوں کرتے ہیں) تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی ہے کہ میں آپ کی طرف سے قربانی کیا کروں، تو میں آپ کی طرف سے (بھی) قربانی کرتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الضَّحَايَا/حدیث: 2790]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الأضاحي 3 (1495)، (تحفة الأشراف: 10072)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/107، 149، 150) (ضعیف)» (اس کے راوی ابوالحسناء مجہول ہیں، نیز حنش کے بارے میں بھی اختلاف ہے)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1495)
شريك والحكم بن عتيبة مدلسان و عنعنا
و أبو الحسناء ’’مجهول‘‘ (تقريب التهذيب: 8053)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 101
الحكم: ضعيف