عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ،حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدِّمَاءَ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْث، قَالَ: فَإِذَا خَلَّفَتْهُنَّ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فلتغتسل، وساق الحديث بمعناه.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سلیمان بن یسار ایک انصاری سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت کو (استحاضہ) کا خون آتا تھا۔ پھر انہوں نے لیث کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی، اس میں ہے کہ: ”جب وہ انہیں گزار لے (حیض کے ایام)، اور نماز کا وقت آ جائے، تو چاہیئے کہ وہ غسل کرے“، پھر راوی نے اسی کے ہم معنی پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 276]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 18158) (صحیح)» (سند میں واقع رجل صحابی ہیں)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
رجل من الأنصار مجھول،انظر الحديث السابق: 275 (وضعيف سنن ابن ماجه: 623)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 23
الحكم: صحيح