مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ بِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”امام بحیثیت ڈھال کے ہے اسی کی رائے سے لڑائی کی جاتی ہے (تو اسی کی رائے پر صلح بھی ہو گی)“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2757]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13788)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجھاد 109 (2957)، صحیح مسلم/الإمارة 9 (1841)، سنن النسائی/البیعة 30 (4201) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: امام اور امیر کی قیادت میں عام شہری اس کے حکم اور اس کی رائے اور اس کی طرف سے دشمن سے کیے گئے معاہدوں کے مطابق زندگی گزارتے ہیں، ایسی صورت میں امام رعایا کے لیے ڈھال ہوتا ہے، جس کے ذریعے سے لوگ نقصانات سے محفوظ رہتے ہیں، جیسے ڈھال کے ذریعے آدمی دشمن کے وارسے محفوظ رہتا ہے،امام اور دشمن کے درمیان جو بات صلح اور اتفاق سے طے ہو جاتی ہے، اس کے مطابق دونوں فریق اپنے مسائل حل کرتے ہیں، تو امام کے معاہدہ کے نتیجے میں لوگ دشمن کی ایذا سے محفوظ رہتے ہیں، اس لیے امام اور حاکم کی حیثیت امن اور جنگ میں ڈھال کی ہے، جس سے رعایا فوائد حاصل کرتی ہے، اور دشمن کے شر سے محفوظ رہتی ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
رواه البخاري (2957) ومسلم (1841)
الحكم: صحيح