مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، سُفْيَانُ ، يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ الشَّامِيِّ ، مَكْحُولٍ ، زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ التَّمِيمِيِّ ، حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ الشَّامِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ التَّمِيمِيِّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُنَفِّلُ الثُّلُثَ، بَعْدَ الْخُمُسِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (مال غنیمت میں سے) خمس (پانچواں حصہ) نکالنے کے بعد ثلث (ایک تہائی) بطور نفل (انعام) دیتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2748]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الجھاد 35 (2851)، (تحفة الأشراف: 3293)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/159،160)، سنن الدارمی/السیر 43 (2526) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی پہلے کل مال میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکال لیتے پھر باقی میں سے ایک تہائی انعام میں دیتے اور دو تہائی بانٹ دیتے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
مكحول صرح بالسماع عند الحاكم (2/133) وھو برئ من التدليس
الحكم: صحيح