بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 2708 — باب: مال غنیمت میں سے کسی چیز کو اپنے کام میں لانا کیسا ہے؟
کتب سنن ابو داؤد کتاب: جہاد کے مسائل باب: مال غنیمت میں سے کسی چیز کو اپنے کام میں لانا کیسا ہے؟ حدیث 2708
حدیث نمبر: 2708 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ المعنى ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي مَرْزُوقٍ ، حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ ، رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ المعنى، قَالَ أَبُو دَاوُد، وَأَنَا لِحَدِيثِهِ أَتْقَنُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ مَوْلَى تُجِيبَ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَرْكَبْ دَابَّةً مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَعْجَفَهَا رَدَّهَا فِيهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَلْبَسْ ثَوْبًا مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَخْلَقَهُ رَدَّهُ فِيهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ مسلمانوں کی غنیمت کے کسی جانور پر سوار نہ ہو کہ اسے جب دبلا کر ڈالے تو مال غنیمت میں واپس لوٹا دے، اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ مسلمانوں کی غنیمت سے کوئی کپڑا نہ پہنے کہ جب اسے پرانا کر دے تو اسے غنیمت کے مال میں واپس کر دے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2708]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (2158)، (تحفة الأشراف: 3615) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: حاصل یہ ہے کہ غنیمت کے مال میں کھانے کی چیزوں کے علاوہ کسی چیز کا استعمال بلا ضرورت درست نہیں۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
تقدم طرفه (2158، 2159) محمد بن إسحاق بن يسار صرح بالسماع عند أحمد وأبي داود وغيرھما
الحكم: حسن صحيح
← پچھلی حدیث (2707) باب پر واپس اگلی حدیث (2709) →