مُسَدَّدٌ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کی گواہی نہ دینے لگ جائیں، پھر جب وہ اس کلمہ کو کہہ دیں تو ان کے خون اور مال مجھ سے محفوظ ہو گئے، سوائے اس کے حق کے (یعنی اگر وہ کسی کا مال لیں یا خون کریں تو اس کے بدلہ میں ان کا مال لیا جائے گا اور ان کا خون کیا جائے گا) اور ان کا حساب اللہ پر ہو گا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2640]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الإیمان 1(2606)، سنن النسائی/المحاربة 1 (3981)، سنن ابن ماجہ/الفتن (3927)، (تحفة الأشراف: 12506)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجھاد 102 (2946)، صحیح مسلم/الإیمان 8 (2610)، مسند احمد (2/ 314، 377، 423، 439، 475، 482، 502) (صحیح متواتر)»
قال الشيخ الألباني
صحيح متواتر
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (21)
الحكم: صحيح متواتر