مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، الْحَكَمُ ، عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فِي الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَكَذَا الرِّوَايَةُ الصَّحِيحَةُ: قَالَ: دِينَارٌ أَوْ نِصْفُ دِينَارٍ، وَرُبَّمَا لَمْ يَرْفَعْهُ شُعْبَةُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں جو اپنی عورت سے حالت حیض میں جماع کر لے، فرمایا: ”(بطور کفارہ) وہ ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ کرے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: صحیح روایت اسی طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرے“، اور کبھی کبھی شعبہ نے اسے مرفوعاً نہیں بیان کیا ہے، (یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کی حیثیت سے روایت کی ہے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 264]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/الطھارة 182 (290)، والحیض 9 (370)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 123 (640)، (تحفة الأشراف: 6490)، ویأتي ہذا الحدیث فی النکاح (2168)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطھارة 103 (136 و 137)، مسند احمد (1/237، 272، 286، 312، 325، 363، 367) سنن الدارمی/الطھارة 111 (1145) (صحیح)»
وضاحت
معلوم رہے کہ دینار ہمارے موجودہ معیار کے مطابق سوا چار گرام سے کچھ زیادہ سونے کا ہوتا ہے۔ ان مخصوص ایام میں جنسی عمل حرام ہے۔ اگر ہو جائے تو صدقہ دینا چاہیے۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ابو داود (2168)،ترمذي (136137)،ابن ماجه (640)،نسائي (290)
رواية الإمام شعبة عن المدلسين محمولة علٰي سماعهم فالسند صحيح ولكن شعبة رجع عن رفع ھذا الحديث،ولعل الموقوف أرجح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 22
الحكم: صحيح