بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 2634 — باب: لڑائی کے وقت کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کا بیان۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: جہاد کے مسائل باب: لڑائی کے وقت کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کا بیان۔ حدیث 2634
حدیث نمبر: 2634 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُغِيرُ عِنْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَكَانَ يَتَسَمَّعُ فَإِذَا سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر کے وقت حملہ کرتے تھے اور غور سے (اذان) سننے کی کوشش کرتے تھے جب اذان سن لیتے تو رک جاتے، ورنہ حملہ کر دیتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2634]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 6 (382)، سنن الترمذی/السیر 48 (1618)، (تحفة الأشراف: 312)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/132، 229، 241، 270، 353) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: کیونکہ جب اذان کی آواز آتی تو معلوم ہو جاتا کہ یہ لوگ مسلمان ہیں، اور اگر اذان کی آواز نہیں آتی تو ان کا کافر ہو جانا یقینی ہو جاتا اس لئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان پر حملہ کر دیتے، اور چونکہ ان تک اسلام کی دعوت پہنچ چکی تھی اس لئے بغیر دعوت دیئے حملہ کر دیتے تھے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (382)
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (2633) باب پر واپس اگلی حدیث (2635) →