يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ ، عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ مِنْ رَهْطِهِ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَسَلَحْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ سَيْفًا، فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ: لَوْ رَأَيْتَ مَا لَامَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَعَجَزْتُمْ إِذْ بَعَثْتُ رَجُلًا مِنْكُمْ، فَلَمْ يَمْضِ لِأَمْرِي أَنْ تَجْعَلُوا مَكَانَهُ مَنْ يَمْضِي لِأَمْرِي".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک سریہ (دستہ) بھیجا، میں نے ان میں سے ایک شخص کو تلوار دی، جب وہ لوٹ کر آیا تو کہنے لگا: کاش آپ وہ دیکھتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم کو ملامت کی ہے، آپ نے فرمایا: ”کیا تم سے یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ جب میں نے ایک شخص کو بھیجا اور وہ میرا حکم بجا نہیں لایا تو تم اس کے بدلے کسی ایسے شخص کو مقرر کر دیتے جو میرا حکم بجا لاتا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2627]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10012)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/110) (حسن)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن