أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا سَبْقَ إِلَّا فِي خُفٍّ أَوْ فِي حَافِرٍ أَوْ نَصْلٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مقابلہ میں بازی رکھنا جائز نہیں ۱؎ سوائے اونٹ یا گھوڑے کی دوڑ میں یا تیر چلانے میں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2574]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الجھاد 22 (1700)، سنن النسائی/ الخیل 13(3615) (تحفة الأشراف: 1463 8)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/474) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: حدیث میں «سبق» کا لفظ آیا ہے «سبق» اس پیسہ کو کہتے ہیں، جو گھوڑ دوڑ وغیرہ میں شرط کے طور پر رکھا جاتا ہے، لیکن یہ رقم خود گھوڑ دوڑ میں شرکت کرنے والوں کی طرف سے جیتنے والے کے لئے نہ ہو، بلکہ کسی تیسرے فریق کی طرف سے ہو، اگر خود گھوڑوں کی ریس (دوڑ) میں شرکت کرنے والوں کی جانب سے ہو گا تو یہ مقابلہ جُوا میں داخل ہو جائے گا۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3874)
أخرجه الترمذي (1700 وسنده حسن)
الحكم: صحيح