عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمَّا أُصِيبَ إِخْوَانُكُمْ بِأُحُدٍ جَعَلَ اللَّهُ أَرْوَاحَهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ، تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّةِ تَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا وَتَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مِنْ ذَهَبٍ مُعَلَّقَةٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ"، فَلَمَّا وَجَدُوا طِيبَ مَأْكَلِهِمْ وَمَشْرَبِهِمْ وَمَقِيلِهِمْ قَالُوا: مَنْ يُبَلِّغُ إِخْوَانَنَا عَنَّا أَنَّا أَحْيَاءٌ فِي الْجَنَّةِ نُرْزَقُ لِئَلَّا يَزْهَدُوا فِي الْجِهَادِ وَلَا يَنْكُلُوا عِنْدَ الْحَرْبِ، فَقَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: أَنَا أُبَلِّغُهُمْ عَنْكُمْ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا سورة آل عمران آية 169 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارے بھائی احد کے دن شہید کئے گئے تو اللہ نے ان کی روحوں کو سبز چڑیوں کے پیٹ میں رکھ دیا، جو جنت کی نہروں پر پھرتی ہیں، اس کے میوے کھاتی ہیں اور عرش کے سایہ میں معلق سونے کی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں، جب ان روحوں نے اپنے کھانے، پینے اور سونے کی خوشی حاصل کر لی، تو وہ کہنے لگیں: کون ہے جو ہمارے بھائیوں کو ہمارے بارے میں یہ خبر پہنچا دے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں اور روزی دیئے جاتے ہیں تاکہ وہ جہاد سے بے رغبتی نہ کریں اور لڑائی کے وقت سستی نہ کریں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”میں تمہاری جانب سے انہیں یہ خبر پہنچائوں گا“، راوی کہتے ہیں: تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا» ”جو اللہ کے راستے میں شہید کر دئیے گئے انہیں مردہ نہ سمجھو“ (سورۃ آل عمران: ۱۶۹) اخیر آیت تک نازل فرمائی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2520]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5610)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/266) (حسن)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
مشكوة المصابيح (3853)
ابن إسحاق صرح بالسماع وللحديث شواھد عند البيھقي في أثبات عذاب القبر (212 وسنده حسن)
الحكم: حسن