أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، ابْنُ نَافِعٍ يَعْنِي الصَّائِغَ ، أُسَامَةَ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ نَافِعٍ يَعْنِي الصَّائِغَ، عَنْ أُسَامَةَ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَتْ: فَسَأَلْتُ لَهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ فِيهِ: وَاغْمِزِي قُرُونَكِ عِنْدَ كُلِّ حَفْنَةٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کے پاس ایک عورت آئی، پھر آگے یہی حدیث بیان ہوئی، ام سلمہ کہتی ہیں: تو میں نے اس کے لیے اسی طرح کی بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھی، اس روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے بدلے میں فرمایا: ”ہر لپ کے وقت تم اپنی لٹیں نچوڑ لو“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 252]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18151) (حسن)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن