نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ ، مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ تَحْتَ كُلِّ شَعْرَةٍ جَنَابَةً، فَاغْسِلُوا الشَّعْرَ، وَأَنْقُوا الْبَشَرَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ حَدِيثُهُ مُنْكَرٌ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بال کے نیچے جنابت ہے، لہٰذا تم (غسل کرتے وقت) بالوں کو اچھی طرح دھوو، اور کھال کو خوب صاف کرو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن وجیہ کی حدیث منکر ہے، اور وہ ضعیف ہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 248]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الطھارة 78 (106) سنن ابن ماجہ/الطھارة 106(597)، (تحفة الأشراف: 14502) (ضعیف)» (حارث ضعیف ہے جیسا کہ مؤلف نے تصریح کی ہے)
وضاحت
۱؎: صرف پہلا ٹکڑا منکر ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (106)،ابن ماجه (597)
الحارث بن وجيه: ضعيف ضعفه أبو داود وقال ابن حجر : ضعيف (تقريب: 1056)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 22
الحكم: ضعيف