مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ ، الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: وَيْحَكَ إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ شَدِيدٌ فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَهَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہجرت کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے اوپر افسوس ہے! ۱؎ ہجرت کا معاملہ سخت ہے، کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم ان کی زکاۃ دیتے ہو؟“ اس نے کہا: ہاں (دیتے ہیں)، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”پھر سمندروں کے اس پار رہ کر عمل کرو، اللہ تمہارے عمل سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا ۲؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2477]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الزکاة 36 (1452)، والھبة 35 (2633)، ومناقب الأنصار 45 (3923)، والأدب 95 (6165)، صحیح مسلم/الإمارة 20 (1865)، سنن النسائی/البیعة 11 (4169)، (تحفة الأشراف: 1453، 15542)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/14، 64) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: حدیث میں «ویحک» (تمہارے اوپر افسوس ہے!) کا لفظ کلمہ ترحم و توجع ہے اور اس شخص کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو کسی ایسی تباہی میں پھنس گیا ہو جس کا وہ مستحق نہ ہو۔
۲؎: مفہوم یہ ہے کہ تمہاری جیسی نیت ہے اس کے مطابق تمہیں ہجرت کا ثواب ملے گا تم خواہ کہیں بھی رہو، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہجرت ان لوگوں پر واجب ہے جو اس کی طاقت رکھتے ہوں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (6165) صحيح مسلم (1865)
الحكم: صحيح