مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْلَمَةَ ، عَمِّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْلَمَةَ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّ أَسْلَمَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" صُمْتُمْ يَوْمَكُمْ هَذَا؟ قَالُوا: لَا. قَالَ: فَأَتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ وَاقْضُوهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَاءَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبدالرحمٰن بن مسلمہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ اسلم کے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے پوچھا: ”کیا تم لوگوں نے اپنے اس دن کا روزہ رکھا ہے؟“ جواب دیا: نہیں، فرمایا: ”دن کا بقیہ حصہ بغیر کھائے پئے پورا کرو اور روزے کی قضاء کرو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی عاشوراء کے دن۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2447]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/ الصیام 36 (2320) (تحفة الأشراف: 15628)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/29، 367، 409) (ضعیف)» (اس کے راوی عبد الرحمن لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن مسلمة مجهول
انظر التحرير (3884) لم يوثقه غير ابن حبان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 90
الحكم: ضعيف