زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، هُشَيْمٌ ، أَبُو بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ عَاشُورَاءَ، فَسُئِلُوا عَنْ ذَلِكَ. فَقَالُوا: هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي أَظْهَرَ اللَّهُ فِيهِ مُوسَى عَلَى فِرْعَوْنَ، وَنَحْنُ نَصُومُهُ تَعْظِيمًا لَهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَحْنُ أَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ." وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہودیوں کو یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے ہوئے پایا، اس کے متعلق جب ان سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (وضاحت) کو فرعون پر فتح نصیب کی تھی، چنانچہ تعظیم کے طور پر ہم اس دن کا روزہ رکھتے ہیں، (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہم موسیٰ علیہ السلام کے تم سے زیادہ حقدار ہیں“، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2444]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الصوم 69 (2004)، أحادیث الأنبیاء 24 (3397)، المناقب 52 (3943)، التفسیر 2 (4737)، صحیح مسلم/الصیام 19 (1130)، (تحفة الأشراف: 5450)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم 49 (753)، سنن ابن ماجہ/الصیام 41 (1734)، مسند احمد (1/236، 340)، سنن الدارمی/الصوم 46 (1800) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (3943) صحيح مسلم (1130)
الحكم: صحيح