الْقَعْنَبِيُّ ، مَالِكٍ ، أَبِي النَّضْرِ ، عُمَيْرٍ ، أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ،" أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائِمٌ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ. فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ بِعَرَفَةَ فَشَرِبَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے پاس لوگ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یوم عرفہ (نویں ذی الحجہ) کے روزے سے متعلق جھگڑنے لگے، کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے سے ہیں اور کچھ کہہ رہے تھے کہ روزے سے نہیں ہیں چنانچہ میں نے دودھ کا ایک پیالہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا اس وقت آپ عرفہ میں اپنے اونٹ پر وقوف کئے ہوئے تھے تو آپ نے اسے نوش فرما لیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2441]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحج 85 (1658)، الصوم 65 (1988)، الأشربة 12 (5604)، صحیح مسلم/الصیام 18 (1123)، (تحفة الأشراف: 18054)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 43 (132)، مسند احمد (6/338، 340) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1988) صحيح مسلم (1123)
الحكم: صحيح