بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 2439 — باب: عشرہ ذی الحجہ میں روزہ نہ رکھنے کا بیان۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: روزوں کے احکام و مسائل باب: عشرہ ذی الحجہ میں روزہ نہ رکھنے کا بیان۔ حدیث 2439
حدیث نمبر: 2439 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُسَدَّدٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا الْعَشْرَ قَطُّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عشرہ ذی الحجہ ۱؎ میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2439]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الاعتکاف 4 (1176)، سنن الترمذی/الصوم 51 (756)، (تحفة الأشراف: 15949)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام 39 (1729)، مسند احمد (6/42، 124، 190) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی نو دن ہیں یہ حدیث ان روایات میں سے ہے جن کی تاویل کی جاتی ہے کیونکہ ان نو دنوں میں روزہ رکھنا مکروہ نہیں بلکہ مستحب ہے، خاص کر یوم عرفہ (حاجیوں کے میدان عرفات میں وقوف کے دن)کے روزے کی احادیث میں بڑی فضیلت آئی ہے، ہو سکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی بیماری یا سفر کی وجہ سے کبھی روزہ نہ رکھا ہو نیز عائشہ رضی اللہ عنہا کے نہ دیکھنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ روزہ نہ رکھتے رہے ہوں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1176)
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (2438) باب پر واپس اگلی حدیث (2440) →