عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، مَالِكٍ ، أَبِي النَّضْرِ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ. وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ. وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے رکھتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہنے لگتے کہ اب آپ روزے رکھنا نہیں چھوڑیں گے، پھر چھوڑتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہنے لگتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ماہ رمضان کے علاوہ کسی اور ماہ کے مکمل روزے رکھتے نہیں دیکھا، اور جتنے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے اتنے روزے کسی اور ماہ میں رکھتے نہیں دیکھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2434]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الصوم 52 (1969)، صحیح مسلم/الصیام 34 (1156)، سنن الترمذی/الصوم 37 (736)، سنن النسائی/الصیام 19 (2179)، (تحفة الأشراف: 17710)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام 30 (1710)، موطا امام مالک/الصوم 22 (56)، مسند احمد (6/39، 80، 84، 89، 107، 128، 143، 153، 165، 179، 233، 242، 249، 268) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1969) صحيح مسلم (1156)
الحكم: صحيح