سليمان بن حرب الواشحي ، وَمُسَدَّدٌ ، حَمَّادٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حدثنا سليمان بن حرب الواشحي. ح حَدَّثَنَا وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، قَالَ سُلَيْمَانُ: يَبْدَأُ فَيُفْرِغُ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: غَسَلَ يَدَيْهِ يَصُبُّ الْإِنَاءَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ اتَّفَقَا: فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: يُفْرِغُ عَلَى شِمَالِهِ وَرُبَّمَا كَنَتْ عَنِ الْفَرْجِ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَيْهِ فِي الْإِنَاءِ فَيُخَلِّلُ شَعْرَهُ، حَتَّى إِذَا رَأَى أَنَّهُ قَدْ أَصَابَ الْبَشْرَةَ أَوْ أَنْقَى الْبَشْرَةَ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، فَإِذَا فَضَلَ فَضْلَةٌ صَبَّهَا عَلَيْهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب غسل جنابت کرتے (سلیمان کی روایت میں ہے: تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلے اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے، اور مسدد کی روایت میں ہے: برتن کو اپنے داہنے ہاتھ پر انڈیل کر دونوں ہاتھ دھوتے، پھر دونوں سیاق حدیث کے ذکر میں متفق ہیں کہ) تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (اس کے بعد) اپنی شرمگاہ دھوتے (اور مسدد کی روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے بائیں ہاتھ پر پانی بہاتے، کبھی ام المؤمنین عائشہ نے فرج (شرمگاہ) کو کنایۃً بیان کیا ہے) پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ برتن میں داخل کرتے اور (پانی لے کر) اپنے بالوں کا خلال کرتے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ جان لیتے کہ پانی پوری کھال کو پہنچ گیا ہے یا کھال کو صاف کر لیا ہے، تو اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے، پھر جو پانی بچ جاتا اسے اپنے اوپر بہا لیتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 242]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الغسل 9 (262)، صحیح مسلم/الحیض 9 (316)، (تحفة الأشراف: 16773،16860) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (248) صحيح مسلم (316)
الحكم: صحيح