مُسَدَّدٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، مَنْصُورٍ ، مُجَاهِدٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فَرَفَعَهُ إِلَى فِيهِ لِيُرِيَهُ النَّاسَ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ. فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَدْ" صَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے یہاں تک کہ مقام عسفان پر پہنچے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (پانی وغیرہ کا) برتن منگایا اور اسے اپنے منہ سے لگایا تاکہ آپ اسے لوگوں کو دکھا دیں (کہ میں روزے سے نہیں ہوں) اور یہ رمضان میں ہوا، اسی لیے ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ بھی رکھا ہے اور افطار بھی کیا ہے، تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2404]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الصوم 38 (1948)، صحیح مسلم/الصیام 15 (1113)، سنن النسائی/الصیام 31 (2293)، (تحفة الأشراف: 5749)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام 10(1661)، موطا امام مالک/الصیام 7 (21)، مسند احمد (1/244، 350)، سنن الدارمی/الصوم 15 (1749) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1948) صحيح مسلم (1133)
الحكم: صحيح