الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِمَعْنَاهُ، زَادَ الزُّهْرِيُّ: وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا رُخْصَةً لَهُ خَاصَّةً، فَلَوْ أَنَّ رَجُلًا فَعَلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ لَمْ يَكُنْ لَهُ بُدٌّ مِنَ التَّكْفِيرِ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، والْأَوْزَاعِيُّ، وَمَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، وَعِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ، عَلَى مَعْنَى ابْنِ عُيَيْنَةَ، زَادَ فِيهِ الأَوْزَاعِيُّ: وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی زہری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں زہری نے یہ الفاظ زائد کہے کہ یہ (کھجوریں اپنے اہل و عیال کو ہی کھلا دینے کا حکم) اسی شخص کے ساتھ خاص تھا اگر اب کوئی اس گناہ کا ارتکاب کرے تو اسے کفارہ ادا کئے بغیر چارہ نہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے لیث بن سعد، اوزاعی، منصور بن معتمر اور عراک بن مالک نے ابن عیینہ کی روایت کے ہم معنی روایت کیا ہے اور اوزاعی نے اس میں «واستغفر الله» ”اور اللہ سے بخشش طلب کر“ کا اضافہ کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2391]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12275) (صحیح)» (لیکن زہری کے بات خلاف اصل ہے)
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (6710) صحيح مسلم (1111)
الحكم: صحيح