بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 2373 — باب: روزے کی حالت میں سینگی (پچھنا) لگوانے کی اجازت کا بیان۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: روزوں کے احکام و مسائل باب: روزے کی حالت میں سینگی (پچھنا) لگوانے کی اجازت کا بیان۔ حدیث 2373
حدیث نمبر: 2373 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگی (پچھنا) لگوایا، آپ روزے سے تھے اور احرام باندھے ہوئے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2373]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الصیام 61 (777)، سنن ابن ماجہ/الصیام 18 (1682)، (تحفة الأشراف: 6495)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/215، 222، 286) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی یزید ضعیف ہیں)
وضاحت
۱؎: حالت احرام میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے سے ہوں، یہ بات بعید از قیاس ہے، یہی یزید بن ابی زیاد کے ضعیف ہونے کی دلیل ہے، ہاں کبھی روزے کی حالت میں، اور کبھی احرام کی حالت میں بچھنا لگوانا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ثابت ہے، صحیح بخاری کے الفاظ ہیں «احتجم وهو صائم، واحتجم وهو محرم» (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگی (پچھنا) لگوائی جبکہ آپ روزے سے تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگی لگوائی جبکہ آپ محرم تھے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (777)
يزيد بن أبي زياد : ضعيف
والحديث السابق (الأصل : 2372) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 88
الحكم: ضعيف
← پچھلی حدیث (2372) باب پر واپس اگلی حدیث (2374) →