بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 2355 — باب: افطار کس چیز سے کیا جائے؟
کتب سنن ابو داؤد کتاب: روزوں کے احکام و مسائل باب: افطار کس چیز سے کیا جائے؟ حدیث 2355
حدیث نمبر: 2355 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُسَدَّدٌ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، الرَّبَابِ ، سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ الرَّبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ عَمِّهَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ صَائِمًا فَلْيُفْطِرْ عَلَى التَّمْرِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدِ التَّمْرَ فَعَلَى الْمَاءِ فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو اسے کھجور ۱؎ سے روزہ افطار کرنا چاہیئے اگر کھجور نہ پائے تو پانی سے کر لے اس لیے کہ وہ پاکیزہ چیز ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2355]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الزکاة 26 (658)، الصوم 10 (695)، سنن ابن ماجہ/الصیام 25 (1699)، (تحفة الأشراف: 4486)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/18، 214)، سنن الدارمی/الصوم 12 (1743) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (کیونکہ رباب لین الحدیث ہیں) اس حدیث کی تصحیح ترمذی، ابن خزیمة، ابن حبان نے کی ہے، البانی نے پہلے اس کی تصحیح کی تھی، بعد میں اسے ضعیف الجامع الصغیر میں رکھ دیا (369) تراجع الالبانی (132)۔
وضاحت
۱؎: اس سے نگاہ کو طاقت ملتی ہے اور روزے سے پیدا ہونے والی نقاہت دور ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1990)
أخرجه ابن ماجه (1699 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (2067 وسنده حسن) الرباب بنت صليع ثقة وثقھا الترمذي وابن حبان والحاكم وأخطأ من جھلھا وضعّف الحديث
الحكم: ضعيف
← پچھلی حدیث (2354) باب پر واپس اگلی حدیث (2356) →