مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَوْرٍ ، الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، الْحُسَيْنُ يَعْنِي الْجُعْفِيَّ ، زَائِدَةَ الْمَعْنَى ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَوْرٍ. ح وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ يَعْنِي الْجُعْفِيَّ، عَنْ زَائِدَةَ الْمَعْنَى، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلَالَ، قَالَ الْحَسَنُ فِي حَدِيثِهِ: يَعْنِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" يَا بِلَالُ، أَذِّنْ فِي النَّاسِ فَلْيَصُومُوا غَدًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور اس نے عرض کیا: میں نے چاند دیکھا ہے، (راوی حسن نے اپنی روایت میں کہا ہے یعنی رمضان کا) تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس اعرابی سے پوچھا: ”کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں؟“ اس نے جواب دیا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اس بات کی بھی گواہی دیتا ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟“ اس نے جواب دیا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2340]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الصوم 7 (691)، سنن النسائی/الصوم 6 (2115)، سنن ابن ماجہ/الصیام 6 (1652)، (تحفة الأشراف: 6104، 19113)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصوم 6 (1734) (ضعیف)» (عکرمہ سے سماک کی روایت میں بڑا اضطراب پایا جاتا ہے، نیز سماک کے اکثر تلامذ نے اسے «عن عکرمہ عن النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم …» مرسلاً روایت کیا ہے)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (691) نسائي (2114) ابن ماجه (1652)
سلسلة سماك عن عكرمة : سلسلة ضعيفة (تقدم : 68،2238)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 87
الحكم: ضعيف