أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ" لَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنَ السَّنَةِ شَهْرًا تَامًّا إِلَّا شَعْبَانَ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سال میں کسی مہینے کے مکمل روزے نہ رکھتے سوائے شعبان کے اسے رمضان سے ملا دیتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2336]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/الصیام 19 (2178)، (تحفة الأشراف: 18238)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم 37 (736)، سنن ابن ماجہ/الصیام 4 (1648)، مسند احمد (6/300، 311)، سنن الدارمی/الصوم 33 (1780) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اور یہ صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے خاص تھا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امت کو نصف شعبان کے بعد روزے سے منع فرمایا ہے، تاکہ رمضان کے لئے قوت حاصل ہو جائے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1976)
الحكم: صحيح