بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 2325 — باب: جب (بادل کی وجہ سے) مہینہ مشتبہ ہو جائے تو کیا کیا جائے؟
کتب سنن ابو داؤد کتاب: روزوں کے احکام و مسائل باب: جب (بادل کی وجہ سے) مہینہ مشتبہ ہو جائے تو کیا کیا جائے؟ حدیث 2325
حدیث نمبر: 2325 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَفَّظُ مِنْ شَعْبَانَ مَا لَا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ، ثُمَّ يَصُومُ لِرُؤْيَةِ رَمَضَانَ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِ عَدَّ ثَلَاثِينَ يَوْمًا ثُمَّ صَامَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ماہ شعبان کی تاریخوں کا جتنا خیال رکھتے کسی اور مہینے کی تاریخوں کا اتنا خیال نہ فرماتے، پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھتے، اگر وہ آپ پر مشتبہ ہو جاتا تو تیس دن پورے کرتے، پھر روزے رکھتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2325]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16283) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1980)
صححه ابن خزيمة (1910 وسنده صحيح)
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (2324) باب پر واپس اگلی حدیث (2326) →