بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 230 — باب: جنبی مصافحہ کرے اس کے حکم کا بیان۔
کتب سنن ابو داؤد کتاب: طہارت کے مسائل باب: جنبی مصافحہ کرے اس کے حکم کا بیان۔ حدیث 230
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، مِسْعَرٍ ، وَاصِلٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ فَأَهْوَى إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنِّي جُنُبٌ، فَقَالَ:" إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے ملے تو آپ (مصافحہ کے لیے) ہاتھ پھیلاتے ہوئے ان کی طرف بڑھے، حذیفہ نے کہا: میں جنبی ہوں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان نجس نہیں ہوتا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 230]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الطہارة 29 (372)، سنن النسائی/الطھارة 172 (269)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 80 (535)، (تحفة الأشراف: 3339)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/384، 402) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی جنابت نجاست حکمی ہے اس سے آدمی کا بدن یا پسینہ نجس نہیں ہوتا، اسی واسطے جنبی کے ساتھ ملنا بیٹھنا اور کھانا پینا درست ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (372)
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (229) باب پر واپس اگلی حدیث (231) →